آیت اللہ شریعت سنگلجی اور خمینی صاحب

خمینی صاحب نے کشف الاسرار نامی کتاب دراصل آیت اللہ شریعت سنگلجی کے خلاف ہی لکھی تھی،اگرچہ یہ کتاب دیکھنے میں ایک عالم دین علی اکبر حکمی زادہ (جنہوں نے عمامہ و قباء کو ترک کر دیا تھا) کی کتاب “اسرار ہزار سالہ”کے رد میں لکھی گئی ،لیکن اس کتاب میں اصل مقصد نوجوانوں میں ابھرتے ہوئے موحد عالم آیت اللہ شریعت سنگلجی کا رد کرنا تھا،کیونکہ شریعت سنگلجی کی مسجد وا داراہ جو “دارالتبليغ اسلامي” محلہ سنگلج کے نام سے قائم کیا گیا تھا 20 ہزار نوجوان قرآنی جلسات میں شریک ہوتے تھے اور 20 سال تک سنگلج کے اس تبلیغی ادارے سے ایسے نامور علماء مصلحین پیدا ہوئے جس نے قرآن و توحید کا علم بلند رکھا۔
خمینی نے 4 مرتبہ اپنی کتاب میں نام لے کر آیت اللہ سنگلجی کے افکار کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ بقول جان ریچارڈ فرانسی اسکالر کے آیت اللہ خمینی کے سب سے بڑے دشمن سنگلجی تھے۔
چونکہ حکمی زادہ،سید احمد کسروی اور ہزاروں ایسے نوجوان جن عقائد و نظریات کا پرچار کرتے تھے دراصل وہ سب ان کے استاذ آیت اللہ شریعت سنگلچی کے ہی نظریات یا عقائد تھے۔


kashf

 cropped-website-header11
cropped-website-header11
cropped-website-header11
cropped-website-header11
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s